Posted by: aektinka | March 9, 2008

عادل منصوری_ آوازجپ سُنی

moonlight.jpg
adil2.jpg
Posted by: aektinka | March 9, 2008

چاروں طرفسے _عادل منصوری

lveernarasto.jpg
adil.jpg

havab.jpg

 جدا ہونا تھا مجھ کو

 یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو
مگر کیا ہو گیا ہوں، اور، کیا ہونا تھا مجھ کو

ابھی اک لہر تھی جس کو گزرنا تھا سروں سے
ابھی اک لفظ تھا میں، اور، ادا ہونا تھا مجھ کو

پھر اس کو ڈھونڈنے میں عمر ساری بیت جاتی
کوئی اپنی ہی گم گشتہ صدا ہونا تھا مجھ کو

پسند آیا کسی کو میرا آندھی بن کے اٹھنا
کسی کی رائے میں بادِ صبا ہونا تھا مجھ کو

وہاں سے بھی گزر آیا ہوں خاموشی سے اب کے
جہاں اک شور کی صورت بپا ہونا تھا مجھ کو

در و دیوار سے اتنی محبت کس لیے تھیاگر
 اس قید خانے سے رہا ہونا تھا مجھ کو

میں اپنی راکھ سے بے شک دوبارہ سر  اٹھاتا
مگر اک بار تو جل کر فنا ہونا تھا مجھ کو

میں اندر سے کہیں تبدیل ہونا چاہتا تھا
پرانی کینچلی میں ہی نیا ہونا تھا مجھ کو

ظفر، تو میں ہو گیا کچھ اور، ورنہ، اصل میں
برا ہونا تھا مجھ کو، یا بھلا ہونا تھا مجھ کو

ظفَر اِقبَال

Posted by: aektinka | March 9, 2008

زیادہ ہےَ_ظفَر اِقبَال

زیادہ ہے

deevar.jpg

 ٭٭٭
بظاہر صحت اچھی ہے جو بیماری زیادہ ہے
 
اسی خاطر بڑھاپے میں ہوس کاری زیادہ ہے

چلے گا کس طرح سے کاروبارِ شوق اس صورت
رسد کچھ بھی نہیں ہے اور طلبگاری زیادہ ہے

محبت کام ہے جس طرح کا بس دیکھتے جاؤ
رکا رہتا بھی ہے اکثر مگر جاری زیادہ ہے

ہمیں خود بھی یقیں آتا نہیں اس کا جو یہ ہم پر
گرانباری کی نسبت سے سبکساری زیادہ ہے

سراغ اس کا کہیں اندر تو کچھ ملتا نہیں بے شک
یہ حالت وہ ہے جو ہم پر ابھی طاری زیادہ ہے

اٹھا سکتے نہیں جب، چوم کر ہی چھوڑنا اچھا
محبت کا یہ پتھر اس دفعہ بھاری زیادہ ہے

حفاظت ہی ہمارا مسئلہ تھا روزِ اول سے
سو اپنے ارد گرد اب چار دیواری زیادہ ہے

عمارت یہ مکمل ہونے والی ہی نہیں لگتی
کہ اس تعمیر میں کچھ رنگِ مسماری زیادہ ہے

ضروری ہے تو کر دیں گے ظفر تردید بھی جاری
بیانِ عشق اپنا اب کے اخباری زیادہ ہے

٭٭٭

َظفَر اِقبَال

                                                

Posted by: aektinka | March 9, 2008

َظفَر اِقبَال_ چاروں طرف

patte.jpg

چاروں طرف

لفظ پتوں کی طرح اڑنے لگے چاروں طرف
کیا ہوا چلتی رہی آج مرے چاروں طرف

میں نے خود کو جو سمیٹا تو اُسی لمحے میں
اور بھی چاروں طرف پھیل گئے چاروں طرف

رک گئے ہیں تو یہ دریا میرے اندر ہی رکے
چل پڑے ہیں تو اُسی طرح چلے چاروں طرف

اب کہ ہوتا ہی نہیں میرا گزارا ان پر
چاہیے ہیں مجھے اس بار نئے چاروں طرف

ہیں بھی ایسے کہ فقط مجھ کو نظر آتے ہیں
ایک ہی دوسرے میں الجھے ہوئے چاروں طرف

میں ہی معدوم سا ہوتا گیا رفتہ رفتہ
ورنہ منظر تو فلک بوس رہے چاروں طرف

پہلے تو ایک طرف بیٹھ گیا وہ آ کر
اور پھر ایک طرف اس نے کیے چاروں طرف

کوئی اطراف کی اب فکر اُسے کیا ہو گی
ساتھ ہی ساتھ جو پھرتا ہے لیے چاروں طرف

آسماں پر کوئی تصویر بناتا ہوں، ظفر
کہ رہے ایک طرف اور لگے چاروں طرف

َظفَر اِقبَال

« Newer Posts

Categories