Posted by: aektinka | March 9, 2008

جدا ہونا تھا مجھ کوَ_ظفَر اِقبَال

havab.jpg

 جدا ہونا تھا مجھ کو

 یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو
مگر کیا ہو گیا ہوں، اور، کیا ہونا تھا مجھ کو

ابھی اک لہر تھی جس کو گزرنا تھا سروں سے
ابھی اک لفظ تھا میں، اور، ادا ہونا تھا مجھ کو

پھر اس کو ڈھونڈنے میں عمر ساری بیت جاتی
کوئی اپنی ہی گم گشتہ صدا ہونا تھا مجھ کو

پسند آیا کسی کو میرا آندھی بن کے اٹھنا
کسی کی رائے میں بادِ صبا ہونا تھا مجھ کو

وہاں سے بھی گزر آیا ہوں خاموشی سے اب کے
جہاں اک شور کی صورت بپا ہونا تھا مجھ کو

در و دیوار سے اتنی محبت کس لیے تھیاگر
 اس قید خانے سے رہا ہونا تھا مجھ کو

میں اپنی راکھ سے بے شک دوبارہ سر  اٹھاتا
مگر اک بار تو جل کر فنا ہونا تھا مجھ کو

میں اندر سے کہیں تبدیل ہونا چاہتا تھا
پرانی کینچلی میں ہی نیا ہونا تھا مجھ کو

ظفر، تو میں ہو گیا کچھ اور، ورنہ، اصل میں
برا ہونا تھا مجھ کو، یا بھلا ہونا تھا مجھ کو

ظفَر اِقبَال


Leave a response

Your response:

Categories