Posted by: aektinka | March 9, 2008

َظفَر اِقبَال_ فصل اُگانے سے کیا

 

فصل اُگانے سے کیا
 

fasal.jpg

 دور رہ کر نہ اسے پاس بلانے سے کیا
میں نے اندازہ محبت کا بہانے سے کیا

اس کے اپنے ہی خیالات پریشاں تھے بہت
جس نے آغاز مجھے خواب دکھانے سے کیا

  کچھ تسلی مجھے اندازِ تغافل سے ہوئی
کچھ یقین میں نے مزید اس کے نہ آنے سے کیا

شرکت کار کا اک فیصلہ ہم دونوں نے
درمیاں میں کوئی دیوار اٹھانے سے کیا

 کام کرنا تھا جو ہم نے کبھی خاموشی سے
اس قدر وہ بھی یہاں شور مچانے سے کیا  

عکس اس شوخ کے باہر تک اسے چھوڑنے آئے
گزر اس نے جو کبھی آئینہ خانے سے کیا

کارِ دنیا میں بھلا بھی نہ سکے ہم تجھ کو
آخر اتنا بھی ترے یاد دلانے پہ کیا

عری تھی یہ کسی اور زمانے کے لیے
میں نے مربوط اسے اپنے زمانے سے کیا

ساز گار آب و ہوا ہی نہ ہوئی جس کو، ظفر
تجربہ ہم نے وہی فصل اُگانے سے کیا

 َظفَر اِقبَال

 

 

 
 
 

 


Leave a response

Your response:

Categories