فصل اُگانے سے کیا
دور رہ کر نہ اسے پاس بلانے سے کیا
میں نے اندازہ محبت کا بہانے سے کیا
اس کے اپنے ہی خیالات پریشاں تھے بہت
جس نے آغاز مجھے خواب دکھانے سے کیا
کچھ تسلی مجھے اندازِ تغافل سے ہوئی
کچھ یقین میں نے مزید اس کے نہ آنے سے کیا
شرکت کار کا اک فیصلہ ہم دونوں نے
درمیاں میں کوئی دیوار اٹھانے سے کیا
کام کرنا تھا جو ہم نے کبھی خاموشی سے
اس قدر وہ بھی یہاں شور مچانے سے کیا
عکس اس شوخ کے باہر تک اسے چھوڑنے آئے
گزر اس نے جو کبھی آئینہ خانے سے کیا
کارِ دنیا میں بھلا بھی نہ سکے ہم تجھ کو
آخر اتنا بھی ترے یاد دلانے پہ کیا
عری تھی یہ کسی اور زمانے کے لیے
میں نے مربوط اسے اپنے زمانے سے کیا
ساز گار آب و ہوا ہی نہ ہوئی جس کو، ظفر
تجربہ ہم نے وہی فصل اُگانے سے کیا
–َظفَر اِقبَال

میں نے اندازہ محبت کا بہانے سے کیا
جس نے آغاز مجھے خواب دکھانے سے کیا
کچھ یقین میں نے مزید اس کے نہ آنے سے کیا
درمیاں میں کوئی دیوار اٹھانے سے کیا
اس قدر وہ بھی یہاں شور مچانے سے کیا
گزر اس نے جو کبھی آئینہ خانے سے کیا
آخر اتنا بھی ترے یاد دلانے پہ کیا
میں نے مربوط اسے اپنے زمانے سے کیا
تجربہ ہم نے وہی فصل اُگانے سے کیا