چاروں طرف
لفظ پتوں کی طرح اڑنے لگے چاروں طرف
کیا ہوا چلتی رہی آج مرے چاروں طرف
میں نے خود کو جو سمیٹا تو اُسی لمحے میں
اور بھی چاروں طرف پھیل گئے چاروں طرف
رک گئے ہیں تو یہ دریا میرے اندر ہی رکے
چل پڑے ہیں تو اُسی طرح چلے چاروں طرف
اب کہ ہوتا ہی نہیں میرا گزارا ان پر
چاہیے ہیں مجھے اس بار نئے چاروں طرف
ہیں بھی ایسے کہ فقط مجھ کو نظر آتے ہیں
ایک ہی دوسرے میں الجھے ہوئے چاروں طرف
میں ہی معدوم سا ہوتا گیا رفتہ رفتہ
ورنہ منظر تو فلک بوس رہے چاروں طرف
پہلے تو ایک طرف بیٹھ گیا وہ آ کر
اور پھر ایک طرف اس نے کیے چاروں طرف
کوئی اطراف کی اب فکر اُسے کیا ہو گی
ساتھ ہی ساتھ جو پھرتا ہے لیے چاروں طرف
آسماں پر کوئی تصویر بناتا ہوں، ظفر
کہ رہے ایک طرف اور لگے چاروں طرف

چاروں طرف
کیا ہوا چلتی رہی آج مرے چاروں طرف
اور بھی چاروں طرف پھیل گئے چاروں طرف
چل پڑے ہیں تو اُسی طرح چلے چاروں طرف
چاہیے ہیں مجھے اس بار نئے چاروں طرف
ایک ہی دوسرے میں الجھے ہوئے چاروں طرف
ورنہ منظر تو فلک بوس رہے چاروں طرف
اور پھر ایک طرف اس نے کیے چاروں طرف
ساتھ ہی ساتھ جو پھرتا ہے لیے چاروں طرف
کہ رہے ایک طرف اور لگے چاروں طرف
َظفَر اِقبَال