

فضیل جعفری
عادل منصوری کی نظمیں : چند پہلو
جدیدیت کی طرح جدید اردو ادب کی تاریخ بھی خاصی پرانی ہوچکی ہئے چند مصرعوں میں ہی کس طرح ان عورتوں کا سارا جسمانی اور روحانی کرب سمٹ آیا ہے جو نوعمری میں ہی جسم فروشی پر مجبور کردی جاتی ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کے جسموں کی تمام تازگی اور شادابی ختم ہوجاتی ہے۔ انھیں ایسی خطرناک بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں جو ان کے جسمانی نظام کو ہی نہیں ذہنی نظام کو بھی بے ترتیب کردیتی ہیں۔ گاہک آتے ہیں اور ان کے جسموں میں اپنے آتشک زدہ خون کا زہر انڈیل چلے جاتے ہیں۔ فاک لینڈ روڈ ایک بدبودار جلتے ہوئے شہر میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ موت کی کالی مسکراہٹ سے مراد یہ ہے کہ ان جسم فروش عورتوں کی عمر زیادہ نہیں ہوتی اور ناقابل علاج بیماریاں انھیں دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہیں۔ آخر کار وہ اس جگہ پہنچ جاتی ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔
ف”فا ک لینڈ روڈ“ کے بعد ”میرین ڈرایو“ پر نظر ڈالنا ایک قطعاً متضاد صورت حال سے دوچار ہونا ہےے۔ اسے ایک خوشگوار ادبی اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ ۱۹۶۰ والی دہائی کے آخر میں اور ترقی پسندی کے دور شباب میں جدیدیت کا جو رجحان ابھر کر سامنے آیا اس کے خد وخال اور سروکار آج بھی اتنے ہی واضح ، موثر اور تروتازہ ہیں جتنے اس وقت تھے۔ جدید لکھنے والے ایک طرف اگر اس کٹر اور تنگ نظر ادبی ماحول کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گئے جس کا تعلق مارکسزم سے نہیں اسٹالنزم سے تھا تو دوسری طرف انھوں نے راشد ، منٹو، میرا جی، بیدی اور اخترالایمان وغیرہ کو ازسر نو دریافت اور مستحکم کیا۔یہاں ہم ضمنی طور پر یہ بھی لکھتے چلیں کہ جدید نقادوں، شاعروں اور افسانہ نگاروں نے اپنے بڑے سے بڑے پیش رو کی بھی تقلید نہیں کی۔ انھوں نے اپنے انفرادی موضوعات کو خود شناخت کیا، اپنے لئے نئے اسالیب ایجاد کئے، اور نئی لفظیات کی مدد سے روایتی لسانی سانچوں کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ استالینی ترقی پسندی کی واپسی کا امکان ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا۔ ہمیں اس بات کی بھی خوشی ہے کہ آگے چل کر مخدوم محی الدین، علی سردار جعفری اور جاں نثار اختر جیسے اہم ترقی پسند شاعر بھی اپنے ذہن میں رویوں میں تبدیلی کرنے اور جدیدیت سے ہم آہنگ ہونے پر مجبور ہوگئے۔ کہنے کو تو آج بھی کچھ لوگ اپنے نام کے ساتھ ”ترقی پسند“ کا لیبل چسپاں کرتے ہیں ان کی اصل حیثیت ادبی چٹکلوں اور تابوت برداروں سے زیاہ نہیں ہے۔ تاحال جدیدیت ہی اردو کا غالب محاورہ بنی ہوئی ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے خصوصاً اور دیگر کئی جدید نقادوں نے عموماً غالی ترقی پسندی کے جس طرح پرخچے اڑائے وہ جگ ظاہر ہے۔ عادل منصوری غالباً ایسے واحد جدید شاعر ہیں جنھوں نے اس موضوع پر بڑی عمدہ اور بھرپور نظم لکھی ہے۔کھوکھلے لفظوں کی دیوار بنانے والو
کب کا وہ ٹوٹ چکا سرخ خطیبانہ طلسم
اور تم صبح کے رستے میں پڑے سوتے ہو
فکر کے بالوں پہ بے عقل سفیدی چھائی
منتشر کر گئیں گمنام ہوائیں تنکے
شیروانی سے ہوئے اور بھی موزوں قامت
پہلے اک چوکھٹا بنوا لو نئے دانتوں کا
تاکہ تم آئینہ دیکھو تو ذرا ہنس تو سکو
عادل کا شمار اس دور کے ان درجنوں بالکل نئے شاعروں میں ہوتا ہے جو ۱۹۶۸ میں ”نئے نام“ (مرتبہ شمس الرحمن فاروقی اور حامد حسین حامد) نامی انتخاب کی اشاعت کے ساتھ سامنے آئے تھے۔ فاروقی نے ان کے مجموعے ”حشر کی صبح درخشاں ہو“ کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ عادل منصوری ہمارے عہد کے ”سب سے زیادہ تازہ کار اور سب سے زیادہ مہم جو اور باہمت شاعر“ ہیں۔ جو بات فاروقی نے نہیں کہی مگر جو بین السطور کے پردے کے پیچھے سے جھانک رہی ہے وہ یہ ہے کہ کئی دوسرے اہم جدید شاعروں کے یہاں سے مہم جوئی اور تازہ کاری جیسے عناصر رخت سفر باندھ چکے ہیں۔ ابتدا تو سبھی شاعروں نے بڑی ہمت سے کی تھی، پھر آخر یہ لوگ اتنی جلد کیوں تھک گئے؟ سیدھا سا جواب یہ ہے کہ ہمارے بیشتر نمائندہ شاعروں نے حالات سے گھبرا کر اور اعزازو انعام کے چکر میں پڑ کر اپنی شاعری کو سماجی مصروفیتوں میں بدل دیا۔ سستی قسم کی شہرت اور بہت ہی معمولی مادی مفادات ان کی تخلیقی قوت کو موقع ملتے ہی کسی نہ کسی حد تک ہڑپ کر گئے۔ ہم یہاں خوف فساد خلق کی وجہ سے کسی کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ آپ خود ان ناموں کو یاد کرلیجئے۔ آپ کو پتہ چلے گا کہ ہمارے اہم شاعروں کے یوں تو اب تک کئی کئی شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ مگر ان کے پہلے مجموعے کو جو شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی تھی وہ دوسرے تیسرے یا چوتھے کے حصے میں نہیں آئی۔
عال منصوری چونکہ ان جھمیلوں میں نہیں پڑے اس لئے وہ تخلیقی تھکن کا شکار ہوجانے کے بجاے برابر اور خاموشی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔ بالکل یہی بات قاضی سلیم اور شفیق فاطمہ شعریٰ کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ عمیق حنفی نے زیادہ عمر نہیں پائی لیکن وہ بھی جب تک جئے شاعرانہ بانکپن اور بے نیازی کے ساتھ زندہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ادب اور دنیاداری کبھی بھی ہم سفر نہیں ہوسکتے۔ دنیا دار شاعر ہو یا افسانہ نگار وہ بہت جلد اپنے آپ کو دہرانے لگتا ہے۔
عادل کے یہاں شروع سے آخر تک جو تازگی اور ندرت ملتی ہے اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ خود اپنے ہی موضوعات کے جنگل میں پھنس کر رہ جانے کے بجائے ان سے آ زادی حاصل کرنے کی سعی پیہم میں مصروف نظر آتے ہی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان کی شعری رینج یعنی ان کے موضوعات کا دامن بہت وسیع ہے۔ عادل کی نظموں کو باقاعدہ خانوں میں تقسیم کرنا ہی ناممکن ہے۔ تنقیدی سہولت کی خاطر زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی شاعری پر مذہب سیاست، شہر، سماج، ثقافت، تاریخ ، اسطور، خارجی واقعات، شخصی دکھ درد سبھی کی چھاپ نظر آتی ہے۔ اس طرح ان کی شاعری میں بڑی لچک پیدا ہوگئی ہے۔
عادل منصوری کے سلسلے میں ہمیں فاروقی کے اس خیال سے بھی مکمل اتفاق ہے کہ وہ اردو کے واحد سرریلسٹ(Surrealist) شاعر ہیں۔ ہمیں اگر ان کی شاعری میں دادازم (Dadaism)کی بھی جھلکیاں نظر آتی ہیں تو شاید اس کا سبب یہ ہے کہ دونوں کے طریق کار میں بڑی یکسانیت پائی جاتی ہے۔ جدید شاعروں نے سمبلزم اور امیجزم سے جو استفادہ کیا اور جس انداز میں نئے اسالیب کو متعارف کرایا وہ ہر اعتبار سے قابل قدر ہے۔ عال کی مادری زبان گجراتی ہے۔ ان کا شمار گجراتی کے نمائندہ جدید شاعروں میں ہوتا ہے۔ چونکہ گجراتی میں سر ریلسٹ شاعری پہلے سے ہورہی تھی اس لئے عادل کے لئے سر ریلسٹ تکنیک سے فائدہ اٹھانا نسبتاً آسان تھا۔ انھیں آندرے برٹین اور اس کے ساتھیوں تک جانے کی ضرورت نہیں پڑی۔آگے چل کر یہی ان کی انفرادی شناخت بن گئی۔
سر ریلسٹ تکنیک کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ مختلف امیجز کو ایک دوسرے میں پیوست کرکے ان کے درمیان ایک ایسا رشتہ پیدا کردیتے ہیں جو بظاہر غیر منطقی نظر آتا ہے۔ انھوں نے اپنی کم و بیش سبھی نظموں میں منطقی تسلسل سے احتراز کیا ہے کیوں کہ منطق بطور اصول خیال اور تخئیل کو محدود کردیتی ہے۔ ان کے یہاں لامحدود انسانی دماغ کے اندر جھانک کر دیکھنے اور روحانی آزادی سے لطف اندوز ہونے کا عمل ملتا ہے۔عادل کی نظموں میں ایک علامت دوسری علامت سے ، ایک امیج دوسرے امیج سے اور ایک استعارہ دوسرے استعارے سے سے غذا حاصل کرتے ہیں۔ انھوں نے غیر شعوری طور پر یہ دکھایا ہے کہ انسانی دماغ اور دنیا بظاہر دو اکائیاں ہونے کے بطاوجود ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ حساس اور تخلیقی ذہن انھیں الگ الگ کرکے نہیں دیکھ سکتا۔
یہ خصوصیات عادل کی سبھی نظموں ، حتیٰ کہ ان نظموں میں بھی ملتی ہے جن پر مذہب کی چھاپ ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ انھوں نے مذہب کے سلسلے میں الیٹ کے نظرئیے کی پیروی نہیں کی۔ ایلیٹ نے عہد حاضر کے تمام مسائل کا حل چرچ میں ڈھونڈا ہے۔ عادل نے ”حشر کی صبح درخشاں ہو مقام محمود“، ”قلم اٹھا لئے گئے“،” الف سیریز “کی نظمیں اور” تبوک آواز دے رہا ہے“ وغیرہ میں تلمیحوں، استعاروں اور علامتوں کی مدد سے اسلامی تاریخ کی اعلیٰ ترین شخصیت کے علاوہ بعض بے حد اہم شخصیتوں اور واقعات کا ذکر کرکے موجودہ معاشرتی ماحول کی تشریح کی ہے۔ اردو میں ایسی نظمیں پہلے نہیں لکھی گئی تھیں۔ ان نظموں میں بلند ترین انسانی اقدار اور اخلاقیات کو اتنے تخلیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ تاریخ زندہ اور موجود لمحے کے طور پر پوری روحانی قوت کے ساتھ اجاگر ہوجاتی ہے۔ان کا ایقان ہے کہ ان اقدار سے عدم واقیت آج کے انسان کے حق میں عذاب بن گئی ہے۔ یہ وہ عظیم انسانی اور تاریخی روایات ہیں جن کا سوتا خشک نہیں ہوا ہے۔ البتہ موجودہ دور میں اس سے سیراب ہونے کے حوصلے کا فقدان ضرور ہے۔
”حشر کی صبح درخشاں ہو مقام محمود“ میں عادل نے حضرت محمد ، خلفائے راشدین اور کئی اہم صحابہ ¿ کرام کی جلیل القدر اور مثالی شخصیتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے یادگار تاریخی واقعات کو بڑی خوبی اور نفاست سے سمیٹ لیا ہے۔ واقعات کی ترتیب وار اور تفصیلی پیش کش ان کی عادت نہیںہے
فتح مکہ سے مگر لوگ ہدایت پائیں
خون جم جائے جو نعلین میں چلتے چلتے
عرش کی آنکھ سے رحمت کا سمندر ابلے
مسجد نبوی میں انبار غنیمت روشن
لوگ روتے ہوئے نکلے ہیں پریشاں منظر
روشنی پہنچی ابو جہل کی دیواروں تک
علم کے باب علی عمر میں سب سے چھوٹے
چاند کا نام ترے چاک گریبانوں میں
جان دی جاوداں لمحات تلاوت مشغول
خون کے دھبے ہیں قرآن پہ تابندہ نظر
نور مجسم ہوا گنبد خضرا مرکوز
حشر کی صبح درخشاں ہوں مقام محمود
ہاتھ روشن رہے کوثر سے قرابت منظر
اسی طرح جنگ تبوک میں شریک ہونے والے صحابہ سے متعلق نظم کا اختتام بھی ان دعائیہ مصرعوں پر ہوا ہے
مھارے اونٹوں کی گردنوں سے
تمام دنیا میں نور پھیلے
تمھارے گھوڑوں کی ہنہناہٹ
تمھاری منزل کی راہ کھولے
تبوک کو اسلامی تاریخ میں اس لئے بھی اہمیت حاصل ہے کہ یہ وہ آخری غزوہ تھا جس میں حضور اکرم خود شریک ہوئے تھے۔ فتح کے بعد بھی بارہ نقاب پوش منافقین نے آپ پر قاتلانہ حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اگرچہ وہ منافق بعد میں خوف زدہ ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ مگر نبی کریم نے انھیں پہچان لیا تھا اور ان سب کے نام حضرت حذیفہ بن یمان ؓ کو بتا دیئے تھے۔ اسی لئے انھیں ’محرم اسرار نبوت‘ بھی کہا جاتا ہے۔
عادل منصوری کی ایسی نظموں میں جو روحانی کیفیت اور مابعد الطبیعیاتی جلا ملتی ہے وہ ان کا ذاتی سرمایہ ہے۔ ایسی نظموں میں عادل نے کہیں بھی خود کو مذہبی جذباتیت کا شکار نہیں ہونے دیا۔ اس سلسلے کو ختم کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ عادل نے متذکرہ بالانظموں کے علاوہ’ ’پرش“،”سوریہ کا رتھ“، ”استی“ اور ”شراپ“ جیسی نظمیں بھی لکھی ہیں جن کا تعلق اسلامی تایخ اور اخلاقیات سے نہ ہوکر ہندو دھرم اور بدھ دھرم سے ہے۔
جذباتیت کی پرچھائیں ان کی اس نظم پر بھی نہیں پڑتی جو انھوں نے والد کی موت پر لکھی ہے۔ یہ نظم ان کی زخمی روح کی نمائندگی تو کرتی ہے مگر اس میں ذاتی اور جذباتی نقصان سے زیادہ اس کرب کو اجاگر کیا گیا ہے جو کسی شخص کو اپنی آنکھوں کے سامنے قسط وار مرتے دیکھ کر حساس انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ دراصل انھوں نے خود پر شخصی غم کو حاوی کرنے کے بجاے انسانی وجود کی اس معنویت کو ابھارا جو بالآخر معنویت میں بدل جاتی ہے۔
وہ چالیس راتوں سے سویا نہ تھا
وہ خوابوں کو اونٹوں میں لادے ہوئے
رات کے ریگزاروں پہ چلتا رہا
چاندنی کی چتاوں میں جلتا رہا
میز پر
کانچ کے ایک پیالے میں رکھے ہوئے
روح کا ہاتھ چھلنی ہوا
سوئی کی نوک سے
خواہشوں کے دیے
جسم میں بجھ گئے
پوری نظم میں شاعر کے مطالعے کی صحت (Accuracy)قابل داد ہے۔ بستر مرگ پر پڑے ہوئے باپ کی ہر جسمانی اور ذہنی اذیت شاعر کے لئے ناقابل فراموش روحانی تجربے میں بدل گئی ہے۔ رات کے رہگذاروں پہ چلنے اور چاندنی کی چتاو ¿ں میں جلنے کا صاف مطلب ہے کہ بیمار کے لئے ایک ایک پل کاٹنا مشکل ہے۔ کانچ کے پیالے میں رکھے ہوئے دانتوں کے ہنسنے سے مراد ضعیف العمری کا خندہ زن ہونا ہے۔ مسلسل لگنے والے انجکشنوں نے بیمار کے نحیف ہاتھوں کو ہی نہیں اس کی روح کو بھی چلنی کردیا ہے۔ آخر نتیجہ جسم میں خواہشوں کے چراغوں کے بجھ جانے یعنی موت واقع ہونے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
عادل منصوری کی نظموں کے دیگر موضوعات میں شہر اور شہری زندگی کا موضوع خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ سب جانتے ہیں کہ شہر اور شہری زندگی کا عذاب جدید شاعروں کا مشترکہ اور پسندیدہ موضوع ہے۔ اس رجحان کا تعلق کسی فیشن سے نہیں بلکہ اس حقیقت سے ہے کہ جدید دنیا بنیادی طور پر شہروں سے ہی تعلق رکھتی ہے۔ جدید شاعروں نے بامعنی ماضی سے اپنا رشتہ برقرار رکھتے ہوئے شہری زندگی کے عذابوں، پیچیدگیوں، اعصابی تناو ¿، زندہ رہنے کے لئے کی جانے والی مسلسل بھاگ دوڑ، نیز صنعتی ترقی کے سیلاب میں تنکوں کی طرح بہہ جانے والی مہذب اور نفیس اقدار کا نہ صرف موثر اور حقیقت پسندانہ اظہار کیا ہے بلکہ ہر شاعر نے شہر کو اپنے انفرادی زاویئے سے دیکھا ہے۔
عادل منصوری اردو کے اکیلے شاعر ہیں جنھیں بین الاقوامی حسیت کا شاعر کہا جاسکتا ہے۔ ”ایک منظر“،” تنہائی“،” لہو جس کا معصوم ہے اس کو روکو“، ”دشت ابہام“، ”نقرئی رات“، ”شعور نیلی رطوبتوں سے الجھ گیا ہے“،” وقت کی ریت پر“ وغیرہ ایسی نظمیں ہیں جن کا اطلاق جتنا ممبئی، دلی اور کلکتہ پر ہوتا ہے اتنا ہی لندن، ٹوکیو، شنگھائی اور نیویارک جیسے شہروں پر بھی ہوتا ہے۔ ایک مثال پیش خدمت ہے
وہ آنکھوں پر پٹی باندھے پھرتی ہے
دیواروں کا چونا چاٹتی رہتی ہے
خاموشی کے صحراو ¿ں میں اس کے گھر
مرے ہوئے سورج ہیں اس کی چھاتی پر
اس کے بدن کو چھو کر لمحے سال بنے
سال کئی صدیوں میں پورے ہوتے ہیں
(تنہائی)
اس قبیل کی سبھی نظموں کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ موجودہ عہد میں انسان کا وجود بے معنی سا ہوکر رہ گیا ہے۔ خود اس کا داخل اس کے خلاف سازش کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ کبھی کبھی انسانی سائکی پر مکمل بے حسی طاری ہوجاتی ہے۔ یقین اور خود اعتمادی پر کوئی انجانا خوف غالب آجاتا ہے۔ ہر گذرتا ہوا لمحہ حساس انسانوں کی رگوں سے خون نچوڑنے کا کام کرتا ہے۔ عام شہریوں کی حیثیت خستہ حال فرنیچر سے زیادہ نہیں رہ گئی۔ ایک اور مثال
زوال سبزوں پہ رینگتا ہو تو
لوگ سایوں کی سیڑھیوں پر
سفید بیلوں کے سینگ میں خواب دیکھتے ہیں
لہو میں موسم کا زہر تحلیل
کس خرابے میں ڈال آئیں
(زمین سر سے بندھی ہوئی ہے)
جہاں تک ممبئی کا تعلق ہے یہ شہر بیسویں صدی کی ابتدا سے ہی شاعروں کا محبوب موضوع رہا ہے۔ بنگلہ شاعروں نے جو غیر معمولی توجہ کلکتہ پر کی ہے وہی توجہ اردو ، مراٹھی اور گجراتی شاعروں نے ممبئی پر مبذول کی ہے۔ بحیثیت مجموعی مراٹھی شاعر نرائن سردے کی طویل نظم ”ماجھی ودیا پیٹھ“ (میری یونیورسٹی) کو اس موضوع پر بہترین اور کامیاب ترین نظم کہا جاسکتا ہے۔ بیحد غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے ساہتیہ انعام یافتہ شاعر سردے نے ماجھی ودیا پیٹھ، میں ممبئی کی زندگی کے تمام پہلوو ¿ں اور سارے دکھ درد کو جس خوبی اور فنکارانہ چابک دستی سے سمیٹ لیا ہے اس کی کوئی اور مثال کسی اور ہندوستانی زبان میں نہیں ملتی۔ کم و بیش سبھی زبانوں میں اس نظم کا ترجمہ ہوچکا ہے۔ اردو ترجمہ رفیعہ شبنم عابدی نے کیا ہے۔
جن جدید شاعروں نے ممبئی پر نظمیں لکھی ہیں ان میں ندا فاضلی کی نظم ”مہا نگر“ اہم بھی ہے اور اسے کافی شہرت بھی ملی ہے۔ عادل نے ممبئی پر عمومی انداز میں لکھنے کے بجائے یہاں کے چند ایسے علاقوں اور مقامات کو موضوع سخن بنایا ہے جنھیں کئی اعتبار سے سنگ میل کا مرتبہ حاصل ہے۔ ایسی نظموں میں ”فاک لینڈ روڈ“،” میرین ڈرائیو“، ”کوالٹی کی نیم عریاں شام“، چوپاٹی سے متعلق ایک مختصر سی نظم” رات چھ بجے نیروز میں “وغیرہ خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان نظموں کو اگر ان کی کچھ دوسری تخلیقات مثلاً” کم سپٹمبر کی دھن پر“، ”ایلن گنس برگ“ اور ”جیسلمیر کے کھنڈر دیکھ کر“ وغیرہ کے ساتھ پڑھیں تو وہی لطف ملتا ہے جو عالمی جدید شاعروں پیٹر ریڈ گرو(Peter Redgrove)، نارمن میک کیگ(Norman MacCaig)، چارلس ٹاملنسن(Charles Tomlinson)، اسٹیون کلارک (Steven Clarke)اور ہنری ریگو(Henry Rego) جیسے شاعروں کی شاعری میں ملتا ہے۔
گرانٹ روڈ اسٹیشن سے قریب واقع فاک لینڈ روڈ نامی علاقہ سستی قسم کی عورتوں کا بہت بڑا بازار ہے۔ منٹو کے” ممو بھائی“ اور’ ’شاردا“ جیسے مشہور افسانے اسی علاقے کی دین ہیں۔ اردو میں عادل کے علاوہ کسی شاعر نے فاک لینڈ روڈ کو موضوع نہیں بنایاحالانکہ ماضی ¿ قریب کے کئی جانے پہچانے ادیب و شاعر اس بازار میں گھومتے پھرتے دیکھے جاتے رہے ہیں
زنگ آلودہ لہو کی نہر
گوشت کا جلتا ہوا اک شہر
نیلے جسموں سے ابلتا خواہشوں کا زہر
بستروں پر ٹوٹتی لذت کی آہٹ
موت کے ہونٹوں پہ کالی مسکراہٹ
دیکھ